ابنا: شعبہ قم کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ مکارم شیرازی نے مدرسہ امام امیرالمومنین علیہ السلام میں انجمن رزمندگان اسلام کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ تمام مورخین کا عقیدہ ہے کہ پہلی دہائیوں میں اسلام نے کافی ترقی کی ہے لیکن وہ اس کی دلیل کو نہیں جانتے مگر ہم نے نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی رجوع کر کے اس حقیقت کو پالیا ہے۔
انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین میں زہد ویقین کو دین اسلام کی ترقی کے دواہم اور بنیادی عناصر بتاتے ہوئے کہا ہے کہ مادیات سے وابستگی اور عقیدے کی کمزوری شکست کا باعث بنے گی۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس روایت کی رو سے سادہ زندگی بسر کرنے اور آخرت والہی وعدوں پر پکا یقین رکھنے سے اسلام نے ترقی وپیشرفت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر مسلمان ان دو مسائل سے دوری اختیار کر لیں تو شکست ان کا مقدربن جائے گی جیسا کے ایران اورعراق کی آٹھ سالہ جنگ کے دوران سادہ زندگی بسر کرنے والے گھرانوں کے افراد نے محاذ جنگ پر جا کر اپنی جان کے نذرانے پیش کیے اودعا ومناجات کے ذریعے اپنے ایمان کو مستحکم کیا۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل اور کوئی دیگر ملک ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرتا تو اس کی عمدہ دلیل یہی ایمان اور مادیات سے وابستگی کا نہ ہونا ہے۔
انہوں نے ایرانی جوانوں کے ایمان پر کاری ضرب لگانے میں عالمی استعمار کی وسیع پیمانے پر سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن اس مطلب کو سمجھ گیا ہے کہ جب تک یہ ایمان ہے وہ ہماری ملت کونقصان نہیں پہنچا سکتا اسی وجہ سے وہ سائٹس اوسیٹلائٹ چینلز کے ذریعے ایرانی عوام بالخصوص جوانوں پرشبھات اوراعتراضات کی بمباری کررہا ہے۔
.......
/169